Posts
سپہ سالار پاکستان کو کوئی سمجھا سکتا ہے تو سمجھا لے.
- Get link
- X
- Other Apps
جناب ائر مارشل (ر) شاہد لطیف کی درج ذیل رنگین پوسٹ کے جواب میں. جس جس کو 1971 کے اصل حالات آجتک سمجھ نہیں آئے وہ شاہد لطیف صاحب کی یہ پوسٹ اور میرے درج ذیل کمنٹس پڑھ لے. ہماری اسٹیبلشمنٹ نے اسوقت بھی اسی حماقت کا مظاہرہ کیا تھا. سارے بنگالی اسوقت بھی غدار نہیں تھے. جوش نہیں ہوش جناب ائر مارشل (ر) لطیف صاحب. ایس دیس اتے حق تیرا وی اے میرا وی اے منڈیاں نل تے بھریا پیا پھتو عیسائی دا ویڑہ وی اے مارے جاؤن حق تے فیر اینج ای ہندا اے چگے نوں لگے اگ تے فیر اینج ای ہندا اے لٹے جاون ٹھگ تے فیر اینج ای ہندا اے آج پھر مجھے اس پوسٹ کو دوبارہ شئیر کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ کل میں نے ائرمارشل (ر) شاہد لطی...
ہنسی آتی مجھکو اپنی بربادیوں پر
- Get link
- X
- Other Apps
اتنے بڑے بڑے ماہر اقتصادیات و معاشیات مگر ایک چھوئی سی بات نہیں سمجھ سکتے کہ برائی کو ٹاپ سے نہیں صرف جڑ سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے. وہی پرانے گھسے پٹے ان پڑھوں اور جاہلوں والے ٹیکس نیٹ /ریونیو بڑھانے والے طریقہ کار. مثال کے طور پر وکیلوں پر 5000, پراپرٹی ڈیلرز پر 2000، ڈاکٹروں پر 6000 ٹیکس لگا دیا گیا ہے. WHAT IS THIS NONSENSE ? یہ کوئی قانونی طریقہ کار نہیں بلکہ ماجھے گاموں اور بھتہ خوروں والا جگا ٹیکس سسٹم ہے. آپ ماہر اقتصادیات و معاشیات ہیں کوئی بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کے کرندے نہیں. آپ ملک کے ہر چھوٹے بڑے صنعتکار ، امپورٹر ، تاجر ، مڈل مین ، دکاندار ، کار ڈیلروں، وکیلوں، ڈاکٹروں حتیٰ کہ زمیندار کو اپنی اپنی قیمت فروخت بمطابق پوری دنیا میں رائج درج ذیل طریقہ کار کے پابند کیوں نہیں کرتے. پرائس کنٹرول ایکٹ 1977 کی دفعہ 6اور7 کے تحت ایک کنڑولر جنرل مقرر اور ان دفعات پر سختی سے عمل کیوں نہیں کرواتے. Purchasing price for exp Rs, 100 According to last year's tex return For exp, 25%. ...
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے پی ٹی آئی کی حکومت ڈیم کی فنڈنگ اور بانڈز خریدنے کی توقع تو لگائے ہوئے ہے مگر ان کے مسائل کا حل تلاش کون کرے گا؟
- Get link
- X
- Other Apps
ناروے میں رہنے والے پاکستانی آجکل دو حکومتوں کے درمیان شٹل بن کر رہ گئے ہیں. جناب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اینڈ وزیراعظم عمران خان. بیرون ملک رہنے والے جن پاکستانیوں سے پی ٹی آئی کی حکومت ڈیم بنانے کے لئے فنڈنگ اور بانڈز خریدنے کی توقع لگائے ہوئے ہے زرا انکے مسائل کی طرف بھی توجہ دے. مثلاً آجکل نارویجن حکومت کے ساتھ ہماری حکومت کا کوئی رابط /معاعدہ نہ ہونے کی وجہ سے ناروے میں رہنے والے پاکستانی نارویجن حکومت کی طرف سے پاکستانی اداروں نادرا ، یونین کونسلز اور ایف بی آر وغیرہ کی طرف سے جاری کردہ اصل سرٹیفکیٹس کو بھی تسلیم نہ کرنے اور صرف اور صرف نارویجن ایمبیسی کی طرف سے ہی دستاویزات کی attestation پر زور دینے کی وجہ سے سخت زہنی کوفت اور پریشانی میں مبتلا ہیں. ناروے کے ادارے مثلا پنشن ڈیپارٹمنٹ وغیرہ کا تقاضہ ہے کہ حکومت پاکستان کی طرف سے جاری کردہ اصل دستاویزات کو بھی وہ نہیں مانتے لہزا ہر دستاویز لازماً نارویجن ایمبیسی سے تصدیق کروائی جائے جبکہ نارویجن ایمبسی کا کہنا ہے بلکہ وہ لکھ کر بھی دے چکی ہے کہ پاکستانی نوٹری پلبلک لا ہمیں ڈاکومنٹیش...