Posts

کون بد نصیب / کون خوش نصيب ؟

Image
جو ملالہ سےاختلاف رکھتے ہیں بدنصیب ہیں. مولانا حامد میر مرحوم عاصمہ جہانگیر میری آئیڈیل ہیں. ملالہ لعنت تم دونوں بہن بھائی پر. 1-کیاجائز اور اللہ و اللہ کے رسول صل اللہ علیہ و سلم کے واسطے اختلاف رکھنا بھی جرم ہے. 2- کیا امہ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت بی بی فاطمتہ الزہرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا و حضرت بی بی زینب رضی اللہ تعالٰی عنہا سے بڑھکر عورتوں کے لئے کوئی مشعل راہ اور نیک مثال ہو سکتی ہے چہ جیہ کے انکے بجائے ایک مہ خوار، غیر محرموں کے ساتھ آزادانہ تعلقات رکھنے والی عورت کو مسلم آئیڈیل عورت کے طور پر پیش کر کے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کیا جائے اور گستاخ رسول صل اللہ علیہ و سلم، معلون سلمان رشدی کے ساتھ تصاویر بنوا کر مسلمانوں کی دل آزاری کرنے والی ملالہ اور اسکے نظریاتی بھائی حامد میر کی گٹر کے گندے پانی سے بھی غلیظ تر سوچ کو پروان چڑھانے کی مخالفت کرنا بھی جرم ہے. اگر یہ بدنصیبی ہے تو حامد میر میں لعنت بھیجتا ہوں تیری اور تیری بہن ملالہ اور اسکے والدین اور ایسے نامنہاد روشن خیال بھٹکے ہوئے مسلمانوں کی خوش نصیبی پر . https://www.facebook.com...

اسلامک اسٹیٹ کا فرض اولین

Image
اسلامک اسٹیٹ کا فرض اولین ایک ایسا ماحول تخلیق کرناجس میں انسان,انسان کا محتاج اور غیر اللہ کے سامنے سر جھکانے پر اور, ھاتھ پھیلانے پر مجبور نہ ھو جس میں رزق حلال کما نا اتنا آسان ھو جتنا آجکل حرام.جس میں انسان کی جرات اور بیباکی ڈویلپ اور اسکی انا اور خودداری مجروع نہ ھو,ایک ایسا ماحول جسمیں سے حضرت بلال حبشی اور شیخ عبدالقادر جہلانی جیسے نڈر لوگ اور علامہ اقبال کے شاھین پیدا ھوں.مگر افسوس کہ نہ حسن میں رھی شوخیاں نہ وہ عشق میں رھیں گرمیاں نہ وہ غزنوی میں تپڑ پ رھی. نہ وہ خم ھے زلف ایاز میں آصف علی زرداری کو آصفوں کی ضرورت تھی, اسے وہ مل گے اور نواز شریف کو َخواجہ سروں اور رانا ثنا اللہ جیسے مسخروں کی,سو اسے وہ مل گے,عوام جایں جھنم میں. https://www.facebook.com/tajdin.malik.1/posts/137862503288976 https://www.facebook.com/TajDinMalik43/ https://twitter.com/tajdinmalik43 https://tajdinmalik51.wixsite.com/website

تهزیبوں کی جنگ.

Image
تهزیبوں کی جنگ. یه خدشه میرا نهیں بلکه ان مغربی ایکسڑریمسٹ یهود و نصارٰی  کا ھے جو اس وقت زمانے کے خدا بن کرایک طرف تو یه دعوه کرتے هیں که وه زمانے کی سپر پاور ھیں اور کو ئی  انکا کچھ نهیں بگاڑ سکتا اور دوسری طرف وه معاشرتی ، اخلاقی ،اقتصادی ،قانونی ،اور ساینسی لحاظ سے زوال پزیر اسلامی تهزیب اور اسکے دعویداروں سے خوف زده بھی ھیں که. بقول علامه اقبال.   کهیں ٹوٹا ھوا ستاره مه کامل نه   بن جاے  معاشرے افراد سے تشکیل پاتے اور تهزیبں افراد کے اخلاص سے وجود میں آتی ھیں،اور جب اسلامی معاشرے میں افراد کی حالت یه ھو که بقول ساغر صدیقی.  کل جنهں چھو نهیں سکتی تھی فرشتوں کی نظر   آج وه رونق بازار نظر آتے ھیں  تو پھر یهود. و نصاره کا یه خدشه کم از کم فی. الحال خآلی از دلیل ھی نظر آتا ھے،ھاں جس دن مسلمان کا کردار آسمانوں کی بلندیوں کو چھونےلگ گیا اس دن اسلامی تهزیب کو غالب آنے کے لیے کسی روایتی جنگ کی ضرورت باقی نهیں رھے گی مغربی تهزیب ریت کی دیوار ثابت ھوگی،شراب ،زنا،اور پراپوگنڈه کے ستونوں پرقا ئم  یه عمارت دھڑام سے زمین بوس ھو جاے گی، فی ا...

فوجی افسران اور سیاستدانوں میں تفریق کیوں؟

فوجی افسران اور سیاستدانوں میں تفریق کیوں؟ پاکستان کے کچھ جذباتیت کے شکار ڈکٹیٹروں کے پرستار لوگوں کی یہ منطق آج تک میری سمجھ نہیں آئی کہ ایک فوجی افسر جو کہ ریٹائرمنٹ سے پہلے لاکھوں روپے تنخواہ لیتا ہے. ریٹائرمنٹ کے بعد ہزاروں یا شائد لاکھ روپے سے اوپر پینشن لیتا ہے اور کئی مربع زمین، اعلی رہائش، کئی قسم کی مراعات اور سیکورٹی لیتا ہے وہ اگر محاز جنگ پر کام آجائے تو شہید اور اگر بچ جائے تو غازی مگر ایک سیاستدان بیچارا چاہے اپنا سارا خاندان ملکی مفاد میں قربان کر دے وہ غدار،  سیکورٹی رسک اور نا جانے کیا کیا گند اس پر اچھالا جاتا ہے. کیوں؟ کیا ایسے لوگ شقی القلب، شقی مزاج اور حس انصاف سے محروم ہو چکے ہیں. یا پھر اسٹیبلشمنٹ کی پراپیگنڈا لابی کا یہ کمال ہے کہ وہ فوجیوں اور بیوروکریٹس کے سوا کسی اور کو حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ دینے کو تیار ہی نہیں. بہر حال جو کچھ بھی ہو یہ سوچ ہے بہت غیر منصفانہ اور تباہ کن. یکجہتی اور ایک پیج پر لانے کے لئیے ایک دوسرے کا احترام اولین شرط ہے. اسکے بغیر ایسے خواب دیکھنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے. https://www.facebook.com/tajdin.mali...

کیا مرد کو صرف زمہ داریوں کی حد تک ہی عورت پر فوقیت حاصل ہے؟

ہے.Dominate  جی نہیں یہ فوقیت ہر حال اور ہر طرح کی حاصل ہے. مرد عورت پر ہر لحاظ سے   49% چاہے وہ انتہائی باریک بین سی  یعنی  اور 51% والے حصص کی طرح کی ہے. وہ الگ بات ہے کہ ناقص العقل انسانوں نے کہیں عورت کو اپنے پاؤں کا جوتا سمجھ اور کہیں اسے اپنی جنسی تسکین و اقتصادی و معاشی کمائی کے زریعہ کے طور پر استعمال کرنے کی خاطر ایک شو پیس اور بازاری جنس بنا کر رکھ دیا اور عورت کے ایک  ماں، بہن اور بیوی ہونے کے مقدس رشتے کو بیدردی سے پامال کیا ہے. عورت کی آزادی اور برابری کے دعویدار مغربی معاشروں کے مردوں کو اندر سے ٹٹول کر یعنی انکی دکھتی رگ کو چھیڑ کر دیکھ لو وہ ایک پکے ہوئے ناسور کی طرح پھٹ پڑیں گے کہ تمہارے معاشرے (مسلمان معاشرے) میں مرد Dominate اور ہمارے (مغربی) معاشروں میں عورت Dominate ہے. Balance کہیں نہیں. بیلنس ہو بھی کیسے جب ان انسان نما درندوں کی سمجھ میں یہ بات آج تک آہی نہیں سکی کہ عورت جس کو بنایا ہی اس لئے گیا ہے کہ وہ اس کارخانہ قدرت اور نوع انسانی کو آگے بڑھانے میں مرد کی مددگار بنے. اسکو انہوں نے اپنی وقتی طور پر تسکین کی خاطر ایک دل ب...

A man is a social animal. بقول شیکسپئیر

کمی تے کنگال کمینه اے گل کسے نه بهاوے دهیی چوڈے دی سید منگے فیر دیندا شرماوے میاں محمد بخش لالچ،خودغرضی اور بے صبری و،شارٹ کٹ انسان کی فطرتی کمزوریاں هیں. جن پر سوائے آسمانی هدائت یا زندگی کے تجربات سے فائده اٹھائے قابو نهی پایا جا سکتا. انسان بزات خود کچھ بهی نهی،اسکو کچھ بننے ،کچھ کر دیکهانے کے لئے کوئی نه کوئی روش اختیار کرنے کی ضرورت هوتی هے. بقول شیکسپئیر A man is a social animal. ایک سیاه فام کے بچے کو اگر گوروں کے کلچر میں پروان چڑهایا جائے تو وه سیاه فام کا خون هونے کے باوجود گوروں جیسی حرکات وسکنات اور گفتگو هی کرے گا. ایک پاکستانی پاکستان میں ره کر ساری عمر بنده نهی بن سکتا مگر جب وه کسی ترقی یافته مهزب کنٹری میں چلا جاتا هے تو پهر اس کلچر میں ایڈجسٹ هونا اسکی مجبوری بن جاتا هے. میاں محمد بخش رحہ متزکره بالا شعر میں اسی روش هی کی طرف اشاره فرماتے هیں که انسان جب کمی تے کنگالوں والی روش اختیار کرتے هوئے چوڑوں والی جاب قبول کر لیتا هے تو اس وقت اسے یه احساس کیوں نہیں هوتا که انجام کے طور پر اسکے اندر موجود انسانی صفات کی ارتقاع کےبجائے زوال کا سبب بنے گا. اور وه اپنے ه...

یوم جمہوریہ پاکستان Pakistan Day

Image
یوم جمہوریہ پاکستان؟ یہ کہنا بالکل بجا ہوگا کہ پاکستان نے جمہوریت کی کوکھ سے جنم لیا اور جمہوریت میں ہی اس کی بقا ہے. ویسے بھی انسانوں کے میل جول، آپس کی under standing، افہام و تفہیم، قوت برداشت کی ارتقا اور سیاسی معاملات کے حل کی خاطر جمہوریت سے بہتر ابھی تک کوئ نظام سامنے نہیں آیا. بالفاظ دیگرے جمہوریت کا متبادل آج تک نہیں مل سکا. یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ نظام بھی اسلام نے متعارف کروایا ورنہ جمہوریت کے نام نہاد دعویدار مغربی ممالک اسلام سے پہلے آمریت کے اندھیروں میں بھٹکے ہوئے تھے اور ان جیسا وحشی، درندہ اور قزاق کوئ نہ تھا. مغربی لوگ تو کئی کئی ماہ تک سمندروں میں ڈاکہ زنیاں کرتے رہتے، انکو تو نہانے تک کا ہوش نہ تھا. اپنے جسم کی بدبو گنوانے کے لئیے انہوں نے کاسمیٹکس سپرے وغیرہ ایجاد کئیے. جمہوریت کی ابتدائی اور بہترین شکل بارگاہ رسالت صل اللہ علیہ والہ وصلم اور ازاں بعد خلفائے راشدین کے ادوار تک ملتی ہے اسکے بعد اسلام کو بھی ملوکیت کا رنگ دے دیا گیا. جسکی باقیات آج تک کہیں علما دہن، کہیں فوجی آمروں جنرل ایوب، جنرل یحی، جنرل ضیاع، جنرل حمید گل، جنرل اختر عبدالرحمن اور کچھ حاضر س...